پاکستان کی سینئر اینکر پرسن جیسمین منظور نے مبینہ گھریلو تشدد کا شکار ہونے کے بعد اپنی زخمی حالت کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کر کے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
جیسمین منظور نے اپنی موبائل گیلری کا ایک اسکرین شاٹ شیئر کیا جس میں ان کی سوجی ہوئی آنکھ واضح نظر آ رہی ہے۔ اگر تصویر کو غور سے دیکھا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ ان کے موبائل میں مزید ایسی تصاویر موجود ہیں جن میں چہرے کے مختلف زاویوں سے شدید تشدد کے آثار دکھائی دیتے ہیں۔ بعض تصاویر میں میڈیکل رپورٹس بھی شامل ہیں۔
یہ تصاویر 4 جون کی ہیں۔ جیسمین اس معاملے پر بارہا آواز بلند کرتی رہی ہیں، مگر بدقسمتی سے ان کی صدائیں بےاثر ثابت ہوئیں۔
انہوں نے ایک اور پوسٹ میں اپنے سابق شوہر پر الزام عائد کرتے ہوئے لکھا:
"یہ ان لوگوں کے لیے ہے جنہوں نے ایک مجرم کی حمایت کی۔ یہ میرے سابق شوہر کا دیا گیا تحفہ ہے۔"
اسی روز، جیسمین نے ایلون مسک کو ٹیگ کرتے ہوئے ایک پوسٹ میں مدد کی اپیل کی، لکھا:
"میں پاکستان سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون صحافی ہوں۔ مجھے خواتین پر تشدد اور ہراسانی کے خلاف جدوجہد میں آپ کی مدد درکار ہے۔"
تاہم اس پوسٹ کو صرف ساڑھے 10 ہزار لوگوں نے دیکھا۔ مزید برآں، انہوں نے سی این این کو بھی ٹیگ کرتے ہوئے کہا:
"اگر میرے ساتھ یہ سب کچھ ہو سکتا ہے تو تصور کریں ان لاکھوں خواتین کا جو آج بھی تنہا، بغیر کسی مدد کے، اپنی جنگ لڑ رہی ہیں۔"
افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ایک نامور صحافی کی درد بھری پکار بھی سماجی بےحسی اور ڈیجیٹل بےرخی کے شور میں دب کر رہ گئی۔
